غیر منصرف کی تعریف

 غير منصرف: اس اسم کو کہتے ہیں جس میں منع صرف کے دوسبب ہوں، یا ایسا ایک سبب ہو جو تنہا دو سبب کے قائم مقام ہے۔


حکم: غیر منصرف کا حکم یہ ہے کہ اس پر نہ تو تنوین آئے گی اور نہ کسرہ آئے گا۔ جیسے جَاءَ نِی أَحْمَدُ . رَأَيْتُ أَحْمَدَ مَرَرْتُ بِأَحْمَدَ لیکن اگر وہ مضاف ہو، یا اس پر الف لام آ جائے تو کسرہ آئے گا۔ جیسے ذَهَبْتُ إِلَى مَسَاجِدِكُمْ بِالْمَرَاكِبِ


اسباب منع صرف نو ہیں:


(۱) عدل (۲) وصف (۳) تانیث (۴) معرفه (۵) عجمه (۶) جمع (۷) ترکیب (۸) الف ونون زائدتان (۹) وزن فعل ۔

عدل
: نحویوں کی اصطلاح میں عدل کا معنی یہ ہے کہ اسم اپنی اصلی ہیئت کو بغیر کسی صرفی قاعدہ کے چھوڑ دے اور مادہ باقی رہے۔ جیسے زافِر سے زفر ۔ اس مثال میں ایک سبب علم ہے اور دوسر اسبب عدل ہے۔
اس کی دو قسمیں ہیں: (۱) عدل تحقیقی (۲) عدل تقدیری۔

غیر منصرف کا بیان | غیر منصرف کی تعریف اور اقسام


عدل تحقیقی: یہ ہے کہ کلام عرب میں اسم کے غیر منصرف استعمال ہونے کے علاوہ کوئی دوسری دلیل بھی ہو جو بتائے کہ یہ اسم فلاں اسم سے بدل کر آیا ہے ۔ جیسے ثلاث کہ اس کا معنی ہے ” تین تین“۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اصل میں ثلاثة ثلاثہ تھا کیوں کہ معنی کی تکرار لفظ کی تکرار پر دلالت کرتی ہے۔ اس مثال میں منع صرف کا دوسرا سبب وصف ہے۔

عدل تقدیری
: یہ ہے کہ کلام عرب میں اسم کے غیر منصرف استعمال ہونے کے علاوہ کوئی اور دلیل نہ ہو جو بتائے کہ یہ فلاں اسم سے بدل کر آیا ہے۔ جیسے عمر کہ اس کو عامر سے بدلا ہوا مان لیا گیا ہے۔ اس مثال میں منع صرف کا دوسرا سبب علم ہے ۔ عدل اور وزن فعل ایک اسم میں جمع نہیں ہو سکتے۔


وصف
: اس اسم کو کہتے ہیں جس سے کوئی غیر معین چیز اور اس کی صفت سمجھ میں آئے ۔ جیسے احمر (کوئی سرخ چیز ) . اسْوَدُ ( کوئی کالی چیز ) ۔ ان مثالوں میں منع صرف کا دوسرا سبب وزن فعل ہے۔ وصف اور علم ایک اسم میں جمع نہیں ہو سکتے ، اس لیے کہ وصف سے غیر معین چیز سمجھ میں آتی ہے اور علم سے معین چیز سمجھی جاتی ہے۔

وصف کے منع صرف کا سبب بننے کے لیے یہ شرط ہے کہ وہ اسم معنی وصفی ہی کے لیے وضع کیا گیا ہو اگر چہ بعد میں اس کا استعمال دوسرے معنی میں بھی ہونے لگا ہو۔ لہذا اربع مَرَرْتُ بِنِسْوَةٍ أَرْبَعِ میں منصرف ہے اگر چہ اس میں وصف اور وزن فعل موجود ہے، کیوں کہ اربع کی وضع معنی وصفی کے لیے نہیں بلکہ ایک معین عدد کے لیے ہوتی ہے اور أَسودُ و أَرقم وصف اوروزن فعل کی بنیاد پر غیر منصرف ہیں اگر چہ اب وہ دونوں سیاہ اور چتکبرے سانپ کے نام ہو گئے ہیں ، مگر ان کی اصل وضع معنی وصفی۔ یعنی کسی بھی سیاہ اور چتکبری چیز کے لیے ہوئی ، اس لیے ان میں وصف کا اعتبار ہے۔

تانيث: تانیث بالتاء اور تانیث معنوی کے غیر منصرف کا سبب بننے کے لیے علم ہونا شرط ہے۔ لہذا جس اسم میں تانیث بالتاء-یا- تانیث معنوی ہواور وہ علم نہ ہو، اس میں تانیث غیر منصرف کا سبب نہ بنے گی۔ جیسے ظلمة اور ارض۔ تانیث بالتاء کے ساتھ علمیت پائی جائے تو غیر منصرف پڑھنا واجب ہے۔ جیسے طَلْحَةُ۔ اور تانیث معنوی کے ساتھ علمیت ایسے اسم میں پائی جائے جو ثلاثی ، ساکن الاوسط اور عربی ہو تو اس کو منصرف اور غیر منصرف دونوں پڑھنا جائز ہے۔ جیسے ہند اور اگر تانیث معنوی کے ساتھ علمیت ایسے اسم میں پائی جائے جو ثلاثی نہ ہو، یا ثلاثی ہومگر ساکن الا وسط نہ ہو، یا عجمی ہو تو اس کو غیر منصرف پڑھنا واجب ہے۔ جیسے زَيْنَبُ. سَقَرُ. مَاهُ ، جُورُ اور اگر تانیث الف مقصورہ ، یا الف ممدودہ کے ساتھ ہو تو اس کا غیر منصرف پڑھنا واجب ہے۔ اس لیے کہ تانیث بالالف دو سبب کے قائم مقام ہے۔ جیسے كُبُری اور حَمُرَآءُ۔


معرفه
: وہ اسم ہے جو معین چیز پر دلالت کرے۔ جیسے زینب۔ اس میں تانیث معنوی اور علم ہے ۔ معرفہ کے غیر منصرف کا سبب بننے کے لیے علم ہونا شرط ہے۔ لہذا جو اسم معرفہ ہو لیکن علم نہ ہو اس کا معرفہ ہونا غیر منصرف کا سبب نہیں بنے گا۔ جیسے غُلَامُ زَيْدٍ میں غُلام ۔


عجمه
: عربی میں استعمال ہونے والا وہ لفظ جو اصل میں عربی نہ ہو ۔ اس کے غیر منصرف کا سبب ہونے کے لیے دو شرطیں ہیں: (۱) وہ لفظ جب سے عربی میں استعمال ہوا ہو، علم ہو کر استعمال ہوا ہو خواہ پہلے بھی علم ہو، جیسے يَعْقُوبُ۔ اس میں عجمہ اور علم ہے یا پہلے علم نہ رہا ہو۔ جیسے قانون کہ یہ لغت عجم میں کسی کا علم نہیں بلکہ ہرعمدہ چیز کو قانون کہتے ہیں۔ لیکن جب عربی میں استعمال ہوا تو ایک قاری کا نام بن کر استعمال ہوا۔ (۲) وہ لفظ ثلاثی ، ساکن الاوسط نہ ہو۔ جیسے ابراہیم اور شَتَرُ ( یہ ایک قلعہ کا نام ہے)۔ لہذا لِحام (جب کسی شخص کا نام ہو اور نُوح منصرف ہیں کیوں کہ لِجام ابتداء علم ہو کر عربی میں استعمال نہیں ہوا، اور نوح ثلاثی، ساکن الاوسط ہے۔ واضح رہے کہ صرف چھ انبیا کے نام منصرف ہیں: (۱) محمد (۲) صالح (۳) شعیب (۴) هود (۵) نوح (۶) لوط ۔ ان میں پہلے چار اسما عربی نہیں اور آخر کے دوسا کن الاوسط ہیں۔ باقی تمام انبیا کے نام غیر منصرف ہیں۔


جمع
: وہ اسم ہے جو دو سے زیادہ پر دلالت کرے اس سبب سے کہ اس کے واحد میں تبدیلی کی گئی ہو ، لفظا۔ جیسے رِجَال ، یا تقدیر جیسے فلک کہ اس کا واحد بھی فلک ہے قفل کے وزن پر ، اور اس کی جمع بھی فُلك ہے اسد کے وزن پر۔
جمع کے غیر منصرف کا سبب ہونے کے لیے دو شرطیں ہیں: (۱) منتہی الجموع کا صیغہ ہو، یعنی پہلا اور دوسرا حرف مفتوح ہو اور تیسرے حرف کی جگہ الف علامت جمع ہو، اس کے بعد یا تو ایک حرف مُشَدَّدُ ہو۔ جیسے دَابَّةٌ کی جمع دواب۔ یا دو حرف ہوں اور پہلا مکسور ہو۔ جیسے مسجد کی جمع مَسَاجِدُ ۔ یا تین حروف ہوں اور درمیان والا ساکن ہو۔ جیسے مِصْبَاح کی جمع مَصَابِيحُ۔ (۲) اس کے آخر میں تائے تانیث نہ ہو جو حالت وقف میں ھا بن جاتی ہے۔ اسی وجہ سے فَرازِ نَةٌ منصرف ہے کہ اس میں دوسری شرط مفقود ہے ۔ یہ جمع بھی تنہا دو سبب کے قائم مقام ہے۔


ترکیب
: اس سے مراد مرکب منع صرف ہے۔ اس کے غیر منصرف کا سبب ہونے کے لیے علم ہونا شرط ہے۔ جیسے مَعْدِ يُكَرِبُ۔


الف و نون زائدتان
: اس کا مجموعہ غیر منصرف کا سبب بنتا ہے۔ اس کے سبب ہونے کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ علم ہو۔ جیسے عمران ، عثمان۔ یا ایسا وصف ہو جس کی مونث ہی نہ ہو، یا مونث تو ہولیکن اس میں تاہےتانیث نہ ہو۔ جیسے رَحْمنِ اور سگران۔سعدان ( ایک قسم کی گھاس ہے ) اور عُریان منصرف ہیں کیوں کہ پہلا علم نہیں ہے اور دوسرے کا مؤنث عُرْيَانَةٌ ہے۔


وزن فعل
: اس سے مراد یہ ہے کہ اسم ایسے وزن پر ہو جو فعل کے اوزان سے شمار کیا جا تا ہو۔ اس کے غیر منصرف کا سبب ہونے کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ وزن فعل کے ساتھ مختص ہو، یعنی عربی زبان میں کوئی اسم اصل وضع میں اس وزن پر نہ ہو۔ جیسے شمر ضُرِبَ ۔ یا اس اسم کے شروع میں حروف (ا،ت ، ی ، ن ) میں سے کوئی حرف ہو اور اس کے آخر میں تالے تانیث نہ آتی ہو جو وقف کی حالت میں ھا ہو جاتی ہے۔ جیسے اَحْمَدُ. تَغْلِبُ . يَشْكُرُه نَرْجِسُ يَعمَل (طاقت ور اونٹ) منصرف ہے کیوں کہ اس کی مؤنث يَعْمَلَةٌ آتی ہے۔ اہل عرب کہتے ہیں: نَاقَةٌ يَعْمَلَةٌ


خلاصه
: علم مندرجہ ذیل صورتوں میں غیر منصرف ہو گا:


(۱) مؤنث ہو۔ جیسے فاطمة امنة وحمزة . طَلْحَةُ زَيْنَبُ . سُعَادِ
(۲) عجمہ ہو۔ جیسے ادریس ، بطليموس . إسحاق . يعقوب.
(۳) مرکب منع صرف ہو۔ جیسے حَضْرَمُوتُ . مَعْدِي كَرِبُ . بَعْلَبَكُ.
(۴) اس میں الف ونون زائر تان ہوں۔ جیسے عُثمان • رِضْوَان سَلْمَان عِمْرَان .
(۵) وزن فعل ہو۔ جیسے اَحْمَد. يَعْلى . يَزِيد
(۶) کسی دوسرے لفظ سے معدول ہو ( اس میں عدل ہو)۔ جیسے عُمَرِهِ زُفَرَه رُحَل . قُزَح.


وصف درج ذیل صورتوں میں غیر منصرف ہو گا:


(1) فَعَلَان کے وزن پر ہو۔ جیسے عَطشان . رَيَّان جَوْعَانِ . شَبُعَان.
(۲) أَفْعَلُ کے وزن پر ہو۔ جیسے اَفْضَلُ ، اَحْسَنُ. أَكْثَرُهُ أَقَلَ. أَصْغَرُه أَكْبَرُ.
(۳) کسی دوسرے لفظ سے معدول ہو۔ جیسے مَثْنى . ثُلث. أَخَرَه خُمَاس.
اور اسم کے آخر میں جب الف تانیث مقصورہ ، یا محدودہ ہو تو وہ غیر منصرف ہوگا۔ جیسے حُبلى . حسناء – یا جمع منتہی الجموع ہو۔ تو بھی غیر منصرف ہوگا جیسے دَرَاهِمُ. دَنَانِيرُ.

.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے